LOADING

Type to search

اسلام آباد(بگ ڈیجٹ) نگران وزیراعظم کا کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات اور کوپ 28کانفرنس

Share this to the Social Media

. پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوئے ہیں۔نگران وزیراعظم کے کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات سے تعلقات نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں.نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرلیے گئے ہیں۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہرآزمائش پر پورا اترے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ اسٹرٹیجک تعاون اور بات چیت مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لئے بھرپور تعاون پر اظہار تشکر کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزیراعظم کے دفتر سے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا مختصر ویڈیو بیان جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’آج ابو ظبی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین اربوں ڈالر کی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اس میں متخلف شعبے شامل ہیں، اسے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان نئے دور، اقتصادی تعاون، علاقائی استحکام، اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’شیخ زاید نے 70 کی دہائی میں اس دوستی کی بنیاد رکھی اور اس کو آج ان کے صاحبزادے شیخ محمد بن زاید النہیان ایک نئے دور کی جانب لے کر گئے ہیں‘۔ نگران وزیراعظم نے کہا کہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے موقع پر نگران حکومت کے وفاقی وزرا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور دیگر موجود تھے اور اسی طرح متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ان کے اہم وزرا شریک ہوئے۔ ان معاہدوں کے معاشی ثمرات بہت جلد پاکستان کی معیشت پر بڑے مثبت انداز میں آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔
متحدہ عرب امارات 18 لاکھ پاکستانیوں کا گھر ہے جو دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوش حالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے خصوصی طور پر علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے 28ویں کانفرنس آف پارٹیز کوپ۔28 کے لئے یو اے ای کی صدارت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام سمیت ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے کلیدی شعبوں میں مؤثر اور نتیجہ خیز عالمی اقدامات کی جانب بامعنی پیش رفت کے موقع کے طور پر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ متحدہ عرب امارات کے صدر اور نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی موجودگی میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے تحت مختلف اقدامات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم انوارالحق کاکر نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا، جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ خیال رہے کہ 26 نومبر کو نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ تین روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) گئے تھے۔ ابوظبی کے البطین ایئرپورٹ پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی ۔یہ ملاقات سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، ثقافتی، دفاع اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات سمیت دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔
اس دورے میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز کے منصوبوں، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹک، کان کنی، ایوی ایشن اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیےگئے ہیں ۔بعد ازاں انوار الحق کاکڑ متحدہ عرب امارات میں یکم اور 2 دسمبر کو ہونے والی 28ویں کانفرنس آف پارٹیز (کوپ-28) کے اہم اجلاس میں بھی پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔رواں ہفتے کے آغاز میں ایک اجلاس کے دوران نگران وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ کلائمیٹ فنانس (موسمیاتی مالیات) اور دیگر امور پر کوپ-28 کے دوران پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مکمل تیاریاں کریں۔ پاکستان کے نگران وزیر اعظم کویت اور دبئی بھی جائیں گے۔ کویت میں وہ ولی عہد شیخ مشعل الجابر الصباح اور وزیراعظم شیخ احمد نواف الاحمد الصباح سے ملاقاتیں کریں گے جب کہ دبئی میں وہ یکم اور دو دسمبر کو ورلڈ کلائمیٹ ایکشن سمٹ سی او پی 28 میں بھی شرکت کریں گے۔ یاد رہےکہ متحدہ عرب امارات کا شمار ان برادر ممالک میں ہوتا ہے۔جن برپاکستان مختلف مسائل کے حل کے لیےاعتماد کرسکتا ہے اس اعتماد کو نگران وزیراعظم کے کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اور پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نگران وزیراعظم اور اماراتی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ دونوں رہنماو¿ں نے پاکستان اور امارات کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعاون اور بات چیت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انوارالحق کاکڑ نے اقتصادی اور مالیاتی شعبے میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان کے لیے بھرپور تعاون پر گہرے شکر کا اظہار کیا۔دونوں رہنماو¿ں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخطوں کا مشاہدہ کیا۔ ان مفاہمتی یادداشتوں کی بدولت متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گی اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ نگران وزیراعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس سے پاک متحدہ عرب امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں پر جو دستخط کیے ہیںاس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور تزویراتی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اس وقت متحدہ عرب امارات تقریباً اٹھارہ لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جن کے لیے امارات دوسرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ وہاں دونوں برادر ممالک کی ترقی، خوشحالی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان افراد کی امارات میں موجودگی سے دونوں ممالک کے تعلقات بھی مزید مضبوط ہورہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے یہ لوگ پاکستان کے سفیروں کی حیثیت بھی رکھتے ہیں جو امارات میں صرف روزگار ہی نہیں کما رہے بلکہ دونوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اعتماد کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان اور امارات کے مابین جو اربوں ڈالر کے نئے سمجھوتے ہوئے ہیں ان سے بھی جو نئے مواقع پیدا ہوں گے وہ دونوں ملکوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم ثابت ہوں گے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ان سمجھوتوں کے ذریعے جن شعبوں میں دونوں ملک مل کر کام کریں گے ان میں ہماری حکومت کی جانب سے کس قسم کا تعاون کیا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا سلسلہ 1970ءکی دہائی میں شروع ہوا تھا اور ان برادر مسلم ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد شیخ زید بن سلطان النہیان نے رکھی تھی ۔ اب ان کے صاحبزادے شیخ زید محمد بن النہیان اس دوستی کو نئی بلندیوں کی جانب لے کر جارہے ہیں۔ اسی حوالے سے انوارالحق کاکڑ نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان اور امارات کے مابین جو نئے معاہدے طے پائے ہیں ان کے نتیجے میں شروع ہونے والے منصوبوں کے بہت جلد پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات نظر آئیں گے۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ پاکستان اس وقت جن معاشی مسائل میں الجھا ہوا ہے ان سے نکلنے کے لیے اسے دوست ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امارات پہلے بھی اسی حوالے سے پاکستان کی بھرپور مدد کرچکا ہے اور اس کی مدد کے باعث ہی پاکستان اس قابل ہوسکا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاہدے میں ہونے والی تاخیر کے باوجود اپنی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچاسکے۔

 


نئے معاہدوں کے تحت پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے 20 سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس تاریخی سرمایہ کاری سے پاکستان میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو گی۔ اس حوالے سے ایک حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ ایس آئی ایف سی کے تحت ان منصوبوں سے متعلق مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ امارات میں تعینات پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اپنے بہتر مستقبل کے لیے تزویراتی تعاون اور اقتصادی، تجارتی اور ترقیاتی انضمام کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے وسیع اقتصادی صلاحیتوں اور امتیازی مواقع کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔ فیصل ترمذی نے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے لیے امید افزا شعبوں کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
یو اے ای کے ساتھ پاکستان کی دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم 10 ارب ڈالر ہے اور اب امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس حجم میں اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ متحدہ عرب امارات کو مختلف شعبوں میں مزید ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے اور پاکستان اس سلسلے میں اس کی مدد کر کے ایک طرف اپنے ہنرمند افراد کے روزگار کے اچھے مواقع پیدا کرسکتا ہے اور دوسری جانب امارات کے ساتھ اس کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ایک سبیل بھی پیدا ہوگی۔ اس سلسلے میں کوشش یہ کی جانی چاہیے کہ تمام معاملات کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم پر کیے جانے والے بین الاقوامی اعتماد میں بہتری آئے اور دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کو اپنے لیے مفید سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کریں۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور سٹرٹیجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، ان معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون، علاقائی استحکام اور سٹرٹیجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے، ان معاہدوں پر دونوں ممالک کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،وزیراعظم اٹھائیسویں کانفرنس آف پارٹیز میں پاکستانی وفد کی سربراہی کریں گے۔وزیراعظم یکم اور دو دسمبر کو ورلڈ کلائمیٹ ایکشن سمٹ میں شرکت کریں گے۔وزیر اعظم کے ہمراہ نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی ،نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر ،نگران وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی احمد عرفان اسلم اور نگران وزیر توانائی محمد علی بھی کوپ 28 میں شرکت کریں گے۔کوپ 28 اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں پر 28ویں سالانہ اجلاس ہے، جس میں دنیا بھر کے ممالک اس پر بحث کریں گے کہ وہ کیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کر سکتے ہیں اور کس طرح مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکتے ہیں۔

اس سمٹ کا انعقاد دبئی میں 30 نومبر سے لے کر 12 دسمبر تک ہونے جا رہا ہے۔ کوپ ’کانفرنس آف دی پارٹیز‘ کا مخفف ہے۔ پارٹیز سے مراد وہ ممالک ہیں جنھوں نے سنہ 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔متحدہ عرب امارات دنیا کے تیل پیدا کرنے والے دس بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ دبئی نے اس کانفرنس کے لیے دبئی کی سرکاری آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو سلطان الجابر کو صدر تعینات کیا ہے۔2گیس اور کوئلے کی طرح تیل بھی ’فوسل فیول‘ ہے۔ یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے کیونکہ جب فوسل فیول کو توانائی حاصل کرنے کی غرض سے جلایا جاتا ہے تو یہ کرہ ارض پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کا باعث بنتے ہیں۔سلطان الجابر کی آئل کمپنی ابھی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کمپیئن گروپ 350.org کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ سگریٹ کمپنی کو اس کانفرنس کی نگہبانی کے لیے تعینات کر دیں، جس میں کینسر کے علاج سے متعلق غور کیا جا رہا ہو۔ سلطان الجابر کا کہنا ہے کہ وہ تیل اور گیس کی صنعت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقدامات اٹھانے کے لیے قائل کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ اور یہ کہ توانائی کے متبادل ذریعے کی فرم ’مسدر‘ کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ ہوا اور شمسی توانائی جیسے شعبوں میں ’کلین ٹیکنالوجی‘ کو عام کرنے کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس سے طویل عرصے سے عالمی درجہ حرارت کو کم کرنے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔ سنہ 2015 میں پیرس میں تقریباً 200 ممالک نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اقوام متحدہ کے ’انٹرنیشنل پینل آن کلائمنٹ چینج‘ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے 1.5 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ہدف بہت اہمیت کا حامل ہے۔صنعتی دور سے قبل جب انسان نے فوسل فیول جلانا شروع نہیں کیا تھا، کے مقابلے میں طویل مدتی حدت اس وقت1.1 یا 1.2 سینٹی گریڈ ہے۔اگرچہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے وعدوں کے ساتھ دنیا 2100 تک 2.5 سینٹی گریڈ حدت کی راہ پر گامزن ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سینٹی گریڈ تک رکھنے کے موقع اب تیزی سے مسدود ہوتا جا رہا ہےاس کانفرنس میں پیرس معاہدے کے اہداف کا حصول توجہ کا مرکز ہو گا۔کوپ 28 میں توانائی کے صاف ذرائع کی طرف تیزی سے سفر کو یقینی بناتے ہوئے سنہ 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے۔امیر ممالک سے غریب ممالک کو پیسے دلوا کر ماحولیاتی بہتری کی طرف بڑھنا اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر کام ہو گا۔لوگوں اور فطرت پر توجہ مرکوز رکھنا.کوپ 28 کو سب کے لیے قابل قبول فورم بنانا.صحت، معیشت، خوراک اور فطرت کے تھیم پر دن منانا,اس کانفرنس میں 200 سے زیادہ ممالک کو مدعو کیا گیا ہے۔ امریکہ، چین اور انڈیا سمیت متعدد ممالک نے ابھی اس کانفرنس میں شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ماحولیات پر کام کرنے والے خیراتی ادارے، کمیونٹی گروپس، تھنک ٹینکس، کاروباری شخصیات اور مذہبی رہنما بھی اس کانفرنس کا حصہ بنیں گے۔گذشتہ سال فوسل فیول سے وابستہ ہزاروں وفود نے کوپ 27 میں شرکت کی تھی۔فوسل فیول جیسا کہ کوئلہ، تیل اور گیس، جو کسی ٹیکنالوجی کے بغیر جلائے جاتے ہیں، کے بارے میں کسی معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فوسل فیول کے جلاؤ سے مضر صحت گیسز کے اخراج کو قابو نہیں کیا جا سکے گا۔ سلطان الجابر نے فوسل فیول کے بارے میں مرحلہ وار استعمال کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ مگر انھوں نے مکمل خاتمے کی بات نہیں کی ہے۔ تاہم یورپی یونین اس حوالے سے فوسل فیول کے مکمل خاتمے پر زور دے گی۔ ماحولیات پر کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی معاہدے کے نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مضر صحت گیسز کا اخراج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایسی گیسز کے اخراج کو روکنے سے متعلق کسی بڑے پیمانے پر کام ہو سکے گا۔
یاد رہے کہ کوپ 28 عالمی موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کا اجلاس ہے جو رواں سال دبئی میں منعقد ہو رہا ہے اور 167 ممالک کے سربراہان بشمول پوپ اور شاہ چارلس سوم اس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اہم ملاقاتیں ہونا ہیں اور اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس میں عالمی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے بارے میں فیصلے ہو سکیں گے۔ تاہم ایسا کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کافی کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق 2030 تک 43 فیصد تک کمی کی ضرورت ہے۔ اجلاس کی تیاری کرنے والی متحدہ عرب امارات کی ٹیم نے مختلف حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں طے کر رکھی ہیں۔ان ملاقاتوں کی سربراہی کوپ 28 کے صدر ڈاکٹر سلطان الجبر کریں گے۔ ہر سال میزبان ملک اپنے ایک نمائندے کو کانفرنس کے صدر کے طور پر تعینات کرتا ہے جس کی اہم ذمہ داریوں میں غیر ملکی حکومتوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنا بھی شامل ہوتا ہے۔ کانفرنس کے صدر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی پر دیگر ممالک کو آمادہ کیا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *